منگلورو 3ستمبر (ایس او نیوز) بی سی روڈ پر ہوئے شرتھ مڈیوال مرڈ کیس کی تحقیقات کرنے والی پولیس ٹیم پرالزام لگا ہے کہ اس نے ایک ملزم کی تلاش میں جب اس کے گھر پر چھاپہ ماراتو وہاں پر تلاشی کے دوران قرآن کو زمین پرپھینکتے ہوئے بے حرمتی کی ہے۔
شرتھ مرڈر کیس میں پولیس کو مطلوب اور روپوش ملزم قلندر کے گھر والوں کا کہناہے کہ پولیس نے سنیچر کو صبح 10.30 بجے کے وقت قلندر کی تلاش میں سجیپ مونّور میں واقع ان کے گھر پر چھاپہ مارا تھاجو دوپہر 2.30بجے تک چلتا رہا۔
مدرسوں میں قتل کرنا سکھایا جاتا ہے: گھر والوں کا الزام ہے کہ اس دوران گھر کی تمام اشیاء بکھیر کر رکھ دی گئیں۔ بستر اور گادیاں پھاڑ دی گئیں۔تلاشی لیتے وقت پولیس والے جب الماریوں میں رکھی دینی مدرسے کے نصاب سے متعلق کتابیں پھاڑنے لگے تو گھر والوں نے انہیں بتایا کہ یہ صرف مدرسے کی کتابیں ہیں اس میں اور کچھ بھی نہیں ہے ۔ تب مبینہ طور پرپولیس نے کہا کہ تمہارے مدرسوں کے اساتذہ ہی تمہیں دوسرے تمام لوگوں کا قتل کرنا سکھاتے ہیں ۔اس کے علاوہ پولیس سے جب قرآن کو بحفاظت الماری میں ہی رکھنے کی گزارش کی گئی تو انہوں سے اسے باہرزمین پر پھینک دیا ۔
قلندر کو شوٹ کردیں گے: گھر والوں کے مطابق پولیس کا مطالبہ تھا کہ شرتھ کے قتل کے لئے قلندرنے جو ایک کروڑ روپے حاصل کیے تھے اس کے بارے میں ان کو سراغ دیا جائے۔ اس کے علاوہ انہیں دھمکی دی گئی کہ قلندر کواگر دو دن کے اندر پولیس کے حوالے نہیں کیا گیا تو پھر وہ گھر والوں کو ہی گرفتار کرلیں گے۔قلندر کے گھر والوں کا الزام ہے کہ کسی بھی قسم کے وارنٹ کے بغیر یونیفارم او ر سول ڈریس میں پولیس والوں نے ان کے ہاں چھاپہ مارا تھا جس کے دوران قلندر کو گولی مارکر ہلاک کرنے کی دھمکی بھی دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ قلندر کے سسر کے گھر پر بھی پولیس کے چھاپے کی خبر موصول ہوئی ہے۔
قلندر مجرم ہے تو اسے سزادی جائے: قلندر کے والد ٹی ابراہیم نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ اگران کے بیٹے قلندر نے کوئی جرم کیا ہے تو پھر اسے قانون کے مطابق سزادی جائے۔ پولیس ہم سے وہ ایک کروڑ روپے طلب کررہی ہے جوپولیس کے مطابق شرتھ کے قتل کے لئے قلندر کو دئے گئے تھے۔ جبکہ پولیس کو چاہیے کہ اس آدمی کو پہلے گرفتار کرے جس نے یہ رقم دی تھی۔ہمیں کچھ بھی پتہ نہیں کہ قلندر کہاں ہے۔ خواہ مخواہ اس سے پہلے بھی ہمیں پولیس اسٹیشن بلاکر ہراساں کیا گیا تھا۔اب گھر میں تلاشی کے نام پر پریشان کیا جارہا ہے۔ اگر پولیس نے ہمیں پریشان کرنا بند نہیں کیا تو پھر ہم لوگ خودکشی کرلیں گے۔
ہم بھی قرآن کا احترام کرتے ہیں: اسی بیچ ضلع جنوبی کینر اکے ایس پی سدھیر کمار نے تردیدی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ:" پولیس نے قرآن کے ساتھ کسی بھی قسم کی بے حرمتی کا کام نہیں کیا ہے کیونکہ ہم بھی قرآن کا احترام کرتے ہیں۔ پولیس نے قرآن کو چھوا نہیں ہے اس کا ثبوت اس ویڈیو کلپ میں موجود ہے جوگھر کی تلاشی کے دوران گواہوں کی موجود گی میں ریکارڈ کی گئی ہے ۔"
شرپسندی کے خلاف کارروائی ہوگی: پولیس ایس پی کا کہنا ہے کہ اب جو قرآن کو زمین پر پھینکنے کے فوٹو گرافس عام کیے جارہے ہیں وہ کسی کی شرپسندی ہے جو جذبات بھڑکانے کے لئے پولیس کے لوٹنے کے بعد خود اپنے طور کی گئی ہے۔ ایسے افراد کے خلاف پولیس ضرور کارروائی کرے گی۔ اس کے علاوہ ثبوت مٹانے کی کوششیں کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔ ایس پی کے بیان کے مطابق قلندر کے مکان سے تلاشی کے وقت کچھ اہم کاغذات اور سراغ پولیس کے ہاتھ لگے ہیں جس کا جائزہ لیا جارہا ہے ، اس کے بعد اس سلسلے میں ضروری کارروائی انجام دی جائے گی۔